16 جون 2010 - 19:30

اورکزئی ایجنسی میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران 30جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ شدید لڑائی میں 6سیکورٹی اہلکار ہلاک 10زخمی ہوئے ۔

 فورسز نے اورکزئی ایجنسی کے علاقہ فیروزخیل میں دہشتگردوں کے دواہم مراکز چبوتر اور جلکومیلہ پر کنٹرول حاصل کرلیا اور اہم مقامات پر سیکورٹی پوسٹیں قائم کر کے پوزیشنیں سنبھال لیں ہیں ۔ سرچ آپریشن کے دوران گولہ بارود اور غیر ملکی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ قبضے میں لے لیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں دومقامی کمانڈروں سمیت 12 دہشتگردوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ سوات میں سیکورٹی فورسز نے طالبان کمانڈر رسول خان کو گرفتار کر کے تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ درہ آدم خیل کے علاقہ بوستی خیل میں پرائمری اسکول کو دھماکا خیز مواد سے اڑادیا گیا۔

مردان میں فورسز نے طالبان کمانڈر عمران خان کو پناہ دینے پر مالک مکان کو حراست میں لے لیا جبکہ اس کا گھر جلا دیا۔ باخبر  ذرائع کے مطابق لوئر اورکزئی ایجنسی کے سنگم پر واقعہ قبائلی علاقہ بیزوٹ خیل ، سلطان زئی ، خرشہ ، ستوری خیل اور انڈ خیل میں ہفتہ کی صبح سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کے دوران علاقے میں چھپے دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کے دستوں پر بھاری ہتھیاروں ، مارٹر گنوں اور راکٹوں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں فوج اور ایف سی کے 6جوان ہلاک اور 10سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں 30 دہشت گرد ہلاک اور 40سے زائددہشتگردزخمی ہوئے ۔

.......

152/